ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / زرعی قوانین کے لاگوہونے پرروک لگانا کوئی حل نہیں،مکمل واپس لیاجائے: کسان لیڈر

زرعی قوانین کے لاگوہونے پرروک لگانا کوئی حل نہیں،مکمل واپس لیاجائے: کسان لیڈر

Mon, 11 Jan 2021 23:39:38    S.O. News Service

نئی دہلی، 11 جنوری (آئی این ایس انڈیا) کسان لیڈران نے پیر کو کہا ہے کہ وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے،چاہے حکومت یا سپریم کورٹ تینوں نئے زرعی قوانین کے نفاذ پر پابندی نافذکردے۔ کسان لیڈران نے اپنی ذاتی رائے بتاتے ہوئے کہا کہ پابندی لگانا کوئی حل نہیں ہے اور بہرحال یہ ایک مقررہ وقت کے لئے ہوگا۔

سپریم کورٹ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ متنازعہ زرعی قوانین کے نفاذ پر روک لگا سکتی ہے اور اس معاملے کا دوستانہ حل تلاش کرنے کے لئے مرکز کو مزید وقت دینے سے انکار کر سکتی ہے، جس پر کسان لیڈران نے اپنا رد عمل ظاہر کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اس نے مرکزی حکومت کو پہلے ہی کافی وقت دے دیا ہے۔

ہریانہ بھارتی کسان یونین کے صدر گرنام سنگھ چڈھونی نے کہاکہ ہم سپریم کورٹ کے تبصروں کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن اس احتجاج کو ختم کرنے کا کوئی آپشن نہیں ہے،کسی بھی قسم کی پابندی ایک مقررہ وقت کے لئے ہوگی۔اس کے بعد یہ معاملہ دوبارہ عدالت میں جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کسان چاہتے ہیں کہ قوانین کو مکمل طور پر واپس لیا جائے۔ یہاں تک کہ اگر حکومت یا سپریم کورٹ قوانین کے نفاذ پر پابندی عائد کرتی ہے تو بھی یہ تحریک جاری رہے گی۔

بھارتیہ کسان یونین (مانسا) کے صدر بھوگ سنگھ مانسا نے کہا کہ قوانین پر پابندی لگانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ روک لگانا کوئی حل نہیں ہے، ہم یہاں قوانین کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے آئے ہیں۔ مانسا نے کہاکہ ہم سپریم کورٹ سے ان قوانین کو مکمل طور پر منسوخ کرنے کی اپیل کرتے ہیں کیونکہ وہ آئینی طور پر درست نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان قوانین کی منسوخی تک تحریک جاری رہے گی۔


Share: